مفادِ وقت چھپا ہے ہر ایک رشتے میں
بچا ہی کیا ہے بھلا اب اِس زمانے میں
جسے یہ دُنیا محبت پکارتی ہے مدام
وہ ایک غرض کا لبادہ ہے اِس دُکانے میں
محبتوں کے سرابوں میں ہم رہے تنہا
ہر ایک مِحو رہا اپنی بزم سَجانے میں
مریں گے جب تو تھوڑی دیر ہاہاکار ہوگی
پھر سب لگ جائیں گے رسمیں نبھانے میں
بہا کے چند آنسو کہیں گے "بس اب چلو"
کہ رسمِ دہر ہے یہ، اب دیر کیا دفنانے میں
مِیرا جینا جنہیں اِک پل نہ بھایا تھا 'اسد'
وہ نوحہ گر ہیں مِیری لحد کے سرہانے میں
(ڈاکٹر اسد رضا )
No comments:
Post a Comment