پاکستان میں آج کل یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ بظاہر حالات کو دیکھ کر یہ بات کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جب تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی، عالمی تناظر اور سماجی اثرات کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ تعلیم کی افادیت کا نہیں بلکہ اس کے نظام، ترجیحات اور معاشرتی رویّوں کا ہے۔
دنیا کی تاریخ اس بات کی واضح گواہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنی
بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر رکھی۔ فن لینڈ، جنوبی کوریا، ناروے اور برطانیہ جیسے
ممالک نے تعلیم کو صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنایا۔ ان ممالک نے تحقیق،
جدت اور عملی مہارتوں پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں ان کی معیشتیں مضبوط اور
پائیدار ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جو
فرد کو زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب بناتا ہے۔
اگر ہم تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیں تو فرق مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ترقی
یافتہ ممالک عموماً اپنی جی ڈی پی کا پانچ سے سات فیصد تک تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔
فن لینڈ اور ناروے جیسے ممالک چھ فیصد یا اس سے زائد سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ
جنوبی کوریا بھی پانچ فیصد سے زیادہ بجٹ مختص کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت
تقریباً ڈھائی سے تین فیصد، چین تقریباً چار فیصد اور پاکستان عموماً ڈیڑھ سے دو
فیصد کے درمیان تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ترجیحات
کی عکاسی کرتا ہے، اور یہی کم سرمایہ کاری تعلیمی نظام کی کمزوریوں کی ایک بڑی وجہ
ہے۔
پاکستان میں تعلیمی مسائل کی ایک اہم وجہ پالیسی سازی کی کمزوری ہے۔
جب اہم تعلیمی عہدوں پر ایسے افراد تعینات کیے جائیں جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ
ہوں تو نہ نصاب اپڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں جدت آتی ہے۔ نتیجتاً طلبہ وہی
پرانے طریقوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو عملی زندگی میں زیادہ کارآمد ثابت نہیں
ہوتے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو سوشل
میڈیا کا اثر ہے۔ آج کے دور میں ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے
معلومات کے پھیلاؤ کو انتہائی تیز کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک منفی پہلو بھی
سامنے آیا ہے، یعنی غیر مستند معلومات اور نام نہاد دانشوروں کا بڑھتا ہوا اثر۔
سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو بغیر کسی علمی
بنیاد کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ تعلیم فضول ہے اور کامیابی کے لیے ڈگری کی ضرورت
نہیں۔ چند کامیاب مثالوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ نہیں بتایا جاتا
کہ وہ افراد کتنی محنت، مہارت اور مخصوص حالات کے باعث کامیاب ہوئے۔ اس طرح کی
یکطرفہ اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے اور ان کے ذہن میں
تعلیم کے بارے میں منفی سوچ پیدا کرتی ہے۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر فوری شہرت اور آسان پیسے کا تصور بھی
نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر رہا ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ کوئی شخص بغیر
تعلیم کے صرف ویڈیوز بنا کر پیسہ کما رہا ہے تو وہ طویل تعلیمی سفر کو غیر ضروری
سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہ کامیابی عموماً عارضی ہوتی ہے اور ہر کسی کے لیے ممکن
نہیں۔
تعلیم سے دوری کی دیگر وجوہات بھی کم اہم نہیں ہیں۔ سب سے پہلی وجہ بے
روزگاری ہے۔ جب ڈگری کے باوجود ملازمت نہ ملے تو تعلیم پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسری وجہ تعلیم اور مارکیٹ کے درمیان خلا ہے، جہاں یونیورسٹیاں وہ مہارتیں نہیں
دے رہیں جو انڈسٹری کو درکار ہیں۔ تیسری وجہ معاشی دباؤ ہے، جہاں بہت سے نوجوان
جلدی کمانا چاہتے ہیں تاکہ گھر کی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ چوتھی وجہ تعلیم کا
معیار ہے، جہاں کئی اداروں میں محض ڈگری دی جاتی ہے، علم اور مہارت نہیں۔ پانچویں
وجہ رہنمائی یعنی کیریئر کاؤنسلنگ کی کمی ہے، جس کے باعث طلبہ درست سمت کا انتخاب
نہیں کر پاتے۔
ان تمام مسائل کے باوجود یہ کہنا کہ تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے، حقیقت
سے دور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود کر دیا ہے، جبکہ
جدید دنیا میں کامیابی کے لیے تعلیم کے ساتھ عملی مہارتیں، ٹیکنالوجی کا علم اور
تخلیقی سوچ بھی ضروری ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں
بلکہ شعور، تنقیدی سوچ اور بہتر فیصلہ سازی کی بنیاد ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ
صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لاتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور فکری
ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
مختصراً، پاکستان میں تعلیم کا فائدہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے نظام،
پالیسی اور سماجی رویّوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو
متوازن کرنے، تعلیمی بجٹ بڑھانے، نصاب کو جدید بنانے اور تعلیم کو عملی مہارتوں سے
جوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب یہ اصلاحات آئیں گی تو یہی تعلیم پاکستان کی ترقی، استحکام
اور خوشحالی کا سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔
حوالہ جات
World
Bank – Education Spending Data (% of GDP)
UNESCO – Global Education Monitoring Reports
OECD – Education at a Glance Reports
Government of Pakistan – Economic Survey of Pakistan
Government of India – Union Budget Documents
Government of China – National Education Statistics Reports

No comments:
Post a Comment