Visitors

Tuesday, March 18, 2025

القمونیہ — بیس سال بعد

 

القمونیہ — بیس سال بعد

سورج پھر ویسے ہی نکلا، مگر اس بار اس کی روشنی القمونیہ پر نئی امیدوں کا سایہ ڈال رہی تھی۔ شہر کی گلیاں جو کبھی سنسان اور خوفزدہ تھیں، اب بچوں کے قہقہوں اور خوشبوؤں سے آباد تھیں۔ بیس سال گزر چکے تھے۔ وہ شہر، جہاں جہالت، خوف اور مذہب کے نام پر ظلم راج کرتا تھا، اب علم اور شعور کا گہوارہ بن چکا تھا۔ شہر کے بیچوں بیچ، جہاں کبھی ظلم کے فیصلے ہوا کرتے تھے، اب ایک عظیم الشان لائبریری کھڑی تھی — "علیان میموریل لائبریری"۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں علیان کو قید کیا گیا تھا۔ آج وہاں بچے کتابیں پڑھ رہے تھے، نوجوان مستقبل کے خواب بُن رہے تھے، اور عورتیں، جو کل تک قید تھیں، آج زندگی کے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔

زرمینہ اب بھی وہیں موجود تھی — مگر بالوں میں چاندنی اور چہرے پر وقت کی لکیرں لیے۔ مگر آنکھوں میں وہی پرانی روشنی تھی۔ وہ ہر صبح اس لائبریری کے دروازے پر کھڑی ہو کر آنے والے بچوں کو مسکرا کر دیکھتی اور علیان کا خواب یاد کرتی تھی۔

ریحان، جو کبھی علیان کا ساتھی تھا، اب القمونیہ کا سربراہ تھا — مگر وہ "صدر" یا "وزیرِاعظم" کہلوانے کے بجائے خود کو "عوام کا نمائندہ" کہتا تھا۔ اس نے کبھی محل میں رہنے کی خواہش نہیں کی۔ وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں رہتا، اور ہر فیصلے کے لیے عوامی اسمبلی سے مشورہ کرتا۔

ایک دن، کسی صحافی نے اس سے پوچھا:

"ریحان صاحب، آپ کو لگتا ہے القمونیہ واقعی بدل گیا ہے؟"

ریحان نے مسکرا کر کہا:

"القمونیہ بدلا نہیں، القمونیہ نے خود کو پہچانا ہے۔ ظلم کے خلاف اٹھنا بہادری نہیں، ظلم کو دوبارہ نہ آنے دینا اصل بہادری ہے — اور آج کے القمونیہ میں یہ طاقت ہر شہری میں موجود ہے!"

زرمینہ کا خواب صرف آزادی تک محدود نہ تھا۔ اس نے عورتوں کو شعور دیا، آواز دی، اور اب وہ  ہر میدان میں اپنا  لوہا منوا رہی تھیں۔

لیلیٰ، جو کبھی چھپ کر زرمینہ کے جلسوں میں جایا کرتی تھی، اب القمونیہ کی سب سے بڑی جج تھی — اس کا پہلا فیصلہ وہی تھا جو زرمینہ نے اس سے کہا تھا:

"انصاف کو مذہب یا  سیاست کا غلام  نہ  بننے  دو!"

خدیجہ بیگم کی بیٹی، جسے زرمینہ نے بچپن میں گود میں اٹھایا تھا، اب القمونیہ کی سب سے بڑی ڈاکٹر بن چکی تھی، اور دیہی علاقوں میں جا کر مفت علاج کرتی تھی۔

جنرل عتیق اور مولوی سراج کا نام کتابوں میں محض ظالموں کی مثال کے طور پر رہ گیا تھا۔ نئی نسل کو بتایا جاتا تھا کہ کیسے طاقت اور مذہب کو گٹھ جوڑ بنا کر عوام کو غلام بنایا گیا — اور کیسے ایک عام آدمی، علیان، نے وہ زنجیریں توڑ ڈالیں۔

کسی نے مولوی سراج اور جنرل عتیق کا انجام پوچھا، تو زرمینہ نے مسکرا کر بس اتنا کہا:

"تاریخ نے انہیں وہ جگہ دے دی جہاں ظالموں کا نام صرف نفرت کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔"

لائبریری کے باہر، علیان کے مجسمے کے نیچے ایک جملہ کندہ تھا:

"جب تک علم زندہ ہے، ظلم مر چکا ہے!"

زرمینہ نے علیان کے مجسمے کو آخری بار دیکھا، اور دل ہی دل میں کہا:

"علیان، ہم نے وہ  دن  دیکھ لیا جس کا  خواب تم نے  دیکھا تھا —  القمونیہ آزاد ہے، القمونیہ زندہ ہے، اور یہ روشنی اب کبھی بجھے گی نہیں!"

آسمان پر سورج چمک رہا تھا —  اور  ایسے  لگ رہا  تھا  جیسے القمونیہ کے ہر گھر میں، ہر دل میں، اور ہر سانس میں ایک نئی روشنی جاگ چکی ہو۔


ختم شد

 

 

 

 

 

 

باب انیسواں: نئے القمونیہ کی بنیاد

 

باب انیسواں: نئے القمونیہ کی بنیاد

سورج کی کرنیں جب القمونیہ کے آسمان پر پھیلیں، تو ایسا لگا جیسے صدیوں کے اندھیرے کو روشنی نے نگل لیا ہو۔ شہر کے گلی کوچے جہاں کبھی خوف اور خاموشی کا راج تھا، اب نعرے، خوشیاں اور آزادی کے ترانے گونج رہے تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے — جیسے زندہ ہونے کا احساس پہلی بار ہوا ہو۔

فتح کے بعد زرمینہ شہر کے مرکزی چوک میں کھڑی تھی، جہاں کل تک جنرل عتیق اور مولوی سراج کے قوانین کا پرچار ہوتا تھا۔ وہ جگہ جہاں لوگوں کو پھانسیاں دی جاتی تھیں، آج وہاں عوام کا سمندر جمع تھا۔

زرمینہ نے بلند آواز میں کہا:

"ہم نے ظلم کے نظام کو توڑ دیا ہے، مگر ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی! اب ہمیں ایک نیا نظام بنانا ہے — ایسا نظام جہاں مذہب کو اقتدار کا ہتھیار نہ بنایا جائے، جہاں علم کو قید نہ کیا جائے، اور جہاں عوام کی طاقت اصل حکومت ہو!"

لوگوں نے نعرہ بلند کیا:

"زرمینہ زندہ باد! القمونیہ پائندہ باد!"

ریحان نے مولوی سراج اور جنرل عتیق کے باقی بچ جانے والے ساتھیوں کو گرفتار کروا دیا تھا۔

ایک میدان میں عوام کے سامنے انہیں لایا گیا۔

مولوی سراج کی داڑھی بکھری ہوئی تھی، چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ کبھی عوام کو دیکھتا اور کبھی زرمینہ کو۔ اس نے آخری کوشش کرتے ہوئے کہا:

"میں نے یہ سب دین کے لیے کیا تھا! میں دین کا محافظ ہوں!"

زرمینہ نے تیز نظروں سے اسے دیکھا اور بولی:

"تم نے دین کو ڈھال بنایا، مگر تمہارا  دین اقتدار تھا، عوام نہیں! اصل دین محبت اور انصاف سکھاتا ہے، نہ کہ خوف اور جہالت!"

عوام نے نعرہ لگایا: "جھوٹے مولوی مردہ باد!"

ریحان آگے بڑھا اور بولا:

"آج ہم نہ تم سے بدلہ لیں گے، نہ تمہارا خون بہائیں گے۔ ہم تمہیں وہ دیں گے جو تم نے ہم سے چھینا — آزادی! تمہیں اس ملک سے نکال دیا جائے گا، اور تاریخ تمہیں ظالم اور منافق کے نام سے یاد رکھے گی!"

زرمینہ نے عورتوں کے مجمعے کو مخاطب کیا:

"ہم نے ہمیشہ یہ سنا کہ عورت کمزور ہے، عورت کا کام صرف گھر سنبھالنا ہے۔ مگر آج ثابت ہو گیا کہ عورت جب ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، تو ظالموں کی حکومتیں کانپنے لگتی ہیں"۔ آج سے القمونیہ میں عورتوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں گے — وہ پڑھے گی، لکھے گی، کام کرے گی، اور فیصلہ سازی میں برابر کی شریک ہو گی!

خدیجہ بیگم، جو کل تک خوف کے سائے میں چھپی ہوتی تھی، اب پورے مجمع کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا:

"زرمینہ! تم نے ہماری بیٹیوں کو خواب دیکھنا سکھا دیا ہے — اب ہم انہیں خوابوں کی تعبیر دینا بھی سکھائیں گے!"

زرمینہ، ریحان اور علیان کے باقی ماندہ ساتھیوں نے ایک عارضی حکومت قائم کی۔

زرمینہ نے اعلان کیا:
"
آج سے کوئی مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرے گا، کوئی فوج عوام پر مسلط نہیں ہو گی، اور ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں گے — چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب۔"

ریحان نے مسکرا کر کہا:
"
یہ صرف آغاز ہے، زرمینہ۔ اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے — اب ہمیں عوام کو دوبارہ سوچنا سکھانا ہے، علم اور شعور کو واپس لانا ہے۔"

زرمینہ نے آزادی کی گھنٹی کے نیچے کھڑے ہو کر علیان کی تصویر کو دیکھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

"علیان، تم نے کہا تھا کہ ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے — دیکھو، وہ روشنی آ گئی! آج القمونیہ آزاد ہے، اور عوام نے ظلم کو شکست دے دی ہے!"

ریحان نے قریب آ کر زرمینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:

"علیان ہم سب میں زندہ ہے، زرمینہ۔ یہ جنگ اس کا خواب تھا — اور یہ خواب آج حقیقت بن چکا ہے!"

سورج پوری آب و تاب کے ساتھ القمونیہ پر چمک رہا تھا۔ بچے گلیوں میں کھیل رہے تھے، بازار دوبارہ آباد ہو رہے تھے، اور آزادی کی گھنٹی ہر صبح خوشی سے بجائی جا رہی تھی۔

زرمینہ نے شہر کے بلند ترین مقام پر کھڑے ہو کر آخری بار عوام کو دیکھا اور دل میں سوچا:

"یہ آزادی آسانی سے نہیں ملی — مگر اب اسے کوئی چھین نہیں سکے گا!"

 

 

 

 

باب اٹھارہواں: آزادی کی آخری للکار

 

باب اٹھارہواں: آزادی کی آخری للکار

رات گہری تھی، مگر القمونیہ کے دل میں ایک نیا سورج طلوع ہونے والا تھا۔ زرمینہ اور ریحان نے اپنی آخری جنگ کا منصوبہ مکمل کر لیا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ وہ عوام کو بیدار کریں، خوف کے اندھیروں کو چیر کر روشنی کی طرف بڑھیں — چاہے قیمت کچھ بھی ہو!

زرمینہ اور ریحان نے شہر کے مرکز میں موجود قدیم "آزادی کی گھنٹی" کا انتخاب کیا — وہی گھنٹی جو کبھی القمونیہ کی آزادی کے جشن میں بجائی جاتی تھی، مگر جنرل عتیق نے اسے قید کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ یہ گھنٹی دوبارہ نہ بجے۔

زرمینہ نے کہا، "اگر یہ گھنٹی بجی، تو پورا شہر سمجھے گا کہ بغاوت کا وقت آ گیا ہے۔ یہ ہمارے انقلاب کا اشارہ ہو گا!"

ریحان نے مسکرا کر کہا، "تو پھر ہم اسے ضرور بجائیں گے۔ اور اس بار یہ گھنٹی ظلم کے خاتمے اور آزادی کی ابتداء کا اعلان کرے گی!"

اگلے دن، شہر بھر میں فوجیوں کی گشت بڑھا دی گئی۔ مولوی سراج نے ایک اور فتویٰ دے دیا:

"جو زرمینہ کا ساتھ دے گا، وہ دین اور ریاست دونوں کا غدار ہے۔ اسے فوری طور پر قتل کر دیا جائے!"

شہر کے چوراہوں  پر  زرمینہ اور ریحان کی تصاویر کے نیچے "مطلوب" کے بڑے بڑے الفاظ لگا دیے گئے۔ مگر حیرت انگیز طور پر عوام میں اب وہ خوف باقی نہیں رہا تھا جو پہلے تھا۔

بازاروں میں سرگوشیاں ہونے لگیں:
"
کیا واقعی زرمینہ گھنٹی بجانے والی ہے؟"
"
اگر وہ گھنٹی بجی تو کیا ہم واقعی آزاد ہو جائیں گے؟"

زرمینہ نے ریحان کو آخری پیغام دیا:

"ریحان، اگر میں نہ رہی، تو یہ مشن مکمل کرنا تمہاری ذمہ داری ہوگی۔ یہ جنگ ہماری زندگی سے بڑی ہے!"

ریحان نے زرمینہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"
میں وعدہ کرتا ہوں، زرمینہ — یہ جنگ جیتیں گے، چاہے میری جان چلی جائے!"

ریحان رات کے اندھیرے میں قلعے کی طرف نکل پڑا، جہاں آزادی کی گھنٹی قید تھی۔

زرمینہ نے عورتوں اور بچوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے ان سب کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا:

"میرے بہنو! میرے بھائیو! ہم صدیوں سے غلامی میں جی رہے ہیں۔ ہمیں ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا گیا، ہمارے بچوں کو وہی پڑھایا گیا جو انہیں غلام بنائے رکھے۔ ہمیں مذہب کے نام پر ڈرایا گیا — مگر یہ مذہب نہیں ہے! یہ صرف ان کا بنایا ہوا نظام ہے تاکہ ہم سر نہ اٹھائیں۔ آج اگر ہم نہیں اٹھے تو ہماری آنے والی نسلیں بھی اندھیرے میں رہیں گی! اگر آزادی چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ — موت سے مت ڈرو، غلامی سے ڈرو!"

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر ایک جوان عورت نے نعرہ لگایا:

"زرمینہ زندہ باد!"

پھر یہ نعرہ پورے مجمع میں گونجنے لگا، اور شہر کے ہر کونے تک پھیل گیا:

"زرمینہ زندہ باد! آزادی زندہ باد!"

رات کے آخری پہر میں، ریحان نے قلعے کی دیواریں پار کر لیں۔ گھنٹی کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک فوجی اس کے سامنے آ گیا۔ دونوں کے درمیان خوفناک لڑائی ہوئی — ریحان زخمی ہو گیا، مگر اس نے ہار نہیں مانی۔

آخری لمحے میں، ریحان نے اپنی بچی کھچی طاقت جمع کی اور گھنٹی کی رسی کو کھینچ لیا۔

"گھنٹ...گھنٹ... گھنٹ..."

شہر میں گونجتی آواز نے سوتی ہوئی بستی کو جھنجھوڑ دیا۔

"گھنٹی بج گئی! زرمینہ نے وعدہ پورا کر دیا!" عوام چیخنے لگے۔

مولوی سراج اور جنرل عتیق کے سپاہی گھبرا گئے۔ انہوں نے عوام پر گولیاں برسانا شروع کر دیں، مگر اس بار عوام پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔

زرمینہ نے خدیجہ بیگم، فاطمہ اور دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر فوج کے خلاف پہلی صف سنبھال لی۔ عورتیں پتھروں اور ڈنڈوں سے لڑ رہی تھیں، مگر ان کے چہروں پر خوف کے بجائے جرات نظر آ رہی تھی۔

مولوی سراج نے آخری ہتھیار نکالا:

"یہ عورتیں کافر ہیں! ان سے لڑنا  جہاد ہے!"

مگر اس بار عوام نے اس کے فتویٰ کو مسترد کر دیا۔ ایک نوجوان لڑکے نے آگے بڑھ کر مولوی سراج کو للکارا:

"تم نے دین کو بیچا ہے! اب ہم تمہارے جھوٹے فتوے نہیں سنیں گے!"

جنرل عتیق نے اپنے محل سے نکلنے کی کوشش کی، مگر عوام نے اسے گھیر لیا۔

ریحان، جو زخموں سے چور تھا، لڑکھڑاتے ہوئے آیا اور بولا:
"
عتیق! یہ عوام کے خون کا قرض ہے — اب وقت ہے حساب کا!"

عوام نے جنرل عتیق کو پکڑ لیا اور زرمینہ کے قدموں میں لا پھینکا۔

زرمینہ نے سرد آواز میں کہا:
"
یہ ہے وہ شخص جس نے ہمیں غلام بنایا، مگر آج ہم آزاد ہیں!"

صبح جب سورج نکلا، تو القمونیہ میں ایک نئی زندگی نے جنم لیا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے، بچے ہنس رہے تھے، اور عورتیں فخر سے اپنی بیٹیوں کو آزادی کے قصے سنا رہی تھیں۔

زرمینہ نے آخری بار علیان کی تصویر کو دیکھا اور کہا:
"
ہم جیت گئے، علیان... ہم جیت گئے!"