میں شہر کی روشنیوں میں،
خواب تلاش کرنے نکلا تھا،
ان گلیوں میں، جہاں ہر طرف چمک تھی،
رنگ تھے،
پر سکون نہیں تھا۔
گاؤں کی مٹی،
جہاں کبھی بچپن کے قدموں کے نشان تھے،
ماں کی گود تھی،
باپ کے سائے تھے،
وہ سب پیچھے رہ گئے۔
شہر کی دوڑ،
ایک ایسی دوڑ ہے،
جہاں ہر کوئی جیتنا چاہتا ہے،
مگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں،
کسی کے دل میں چین نہیں۔
وقت گزرتا گیا،
بال سفید ہوئے،
جسم بوجھل ہوا،
اور دل پھر سے اس مٹی کو چاہنے لگا،
جو کبھی میری اپنی تھی۔
اب جب رات کو تنہائی میں،
شہر کی سڑکوں پر چلتا ہوں،
وہی پرانی گلیاں یاد آتی ہیں،
جہاں قدموں نے کھیلنا سیکھا تھا،
جہاں دل نے محبت کا پہلا سبق پڑھا تھا۔
زندگی کے اس سفر میں،
سب کچھ پایا،
پر جو سکون، جو چین،
گاؤں کی مٹی میں تھا،
وہ کہیں نہ ملا۔
اب واپس جانا چاہتا ہوں،
اس مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہوں،
جہاں زندگی نے پہلا سانس دیا تھا،
جہاں شاید،
آخری سکون ملے۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد
رضا

No comments:
Post a Comment