عورت نے جب سوال کیا علم و ہنر سے
ملی
توہین ہر طرف، ہر ایک بشر سے
دین
نے کہا تھا علم ہے حق سبھی کا
مگر
یہ حق چھین لیا مُلا کے ڈر سے
خدا
نے دی عقل، شعورِ فکر بھی بخشا
پر
دل نہ بدلا، خوف تھا لوگوں کے شر سے
سچ
کی جو روشنی کو دباتے ہیں یہاں
اندھیرا
پھیلتا ہے ظلمت کے گھر سے

No comments:
Post a Comment