ہم کیوں ہیں الجھے ہوئے؟
مذہب، سماج، اور تعلقات میں
کیوں ہیں یہ رشتے بکھرے ہوئے؟
کیوں ہے دلوں میں نفرت کی آگ؟
نوجوان ہوں یا بزرگ ہمارے،
سب ہیں ماضی، حال، اور مستقبل کے مارے
کبھی روایتوں میں قید، کبھی خواہشوں کے پیچھے،
بھاگتے ہیں، بھٹکتے ہیں، اک دوجے سے دور دور رہتے ہیں
کبھی مذہب کا نام لے کر،
کبھی سماج کی رسمیں تھام کر،
ہم الجھتے جاتے ہیں رستوں میں،
اور دوری بڑھتی ہے دلوں کے درمیان
نہ حال کا سکون، نہ مستقبل کی امید،
ماضی کی زنجیروں میں ہیں جکڑے ہوئے
کبھی سوچتے ہیں چھوڑ دیں سب کو،
کبھی چاہتے ہیں ساتھ کسی کا، جو سمجھ لے ہمیں
کیوں نہ ہم یہ بوجھ ہلکا کریں؟
کیوں نہ پیار کو اپنا مسلک کریں؟
سچائی اور محبت کو بنائیں زندگی،
کہیں نہ الجھیں، بس خوشی پائیں ہر گھڑی
آؤ، مل بیٹھیں، بات کریں،
دل کی باتوں کو آزاد کریں،
ماضی اور مستقبل کی فکر چھوڑیں،
حال کو خوبصورتی سے جی لیں، سکون پائیں، اور سب کو سکون
دیں

No comments:
Post a Comment