Visitors

Saturday, October 12, 2024

ماضی، حال اور مستقبل


 

 

  ماضی، حال اور مستقبل کے درمیاں
اک بے آواز دریا بہتا ہے
ماضی کے کنارے پر
بوڑھے درختوں کی چھاؤں میں
پرانے خواب، پرانی باتیں
گھنے سایے، پر سکون لمحے
زندگی تھی آہستہ
اور وقت، اک پرانا دوست

حال کے ساحل پر
نئی نسل کی آوازیں گونجتی ہیں
بےچینی کی لہر
آگے بڑھنے کی چاہ
جدیدیت کی کشتیوں میں
نئے خوابوں کا بوجھ
وقت کی رفتار سے لڑتی
بدلتی، سنبھلتی

مستقبل، اک دھندلی لہر
جو پاس نہیں آتی
نئی نسل کی نگاہوں میں
ایک چمکتا ہوا ستارہ
جسے چھونے کی کوشش
اور ماضی کی بیڑیاں
جو قدموں کو روکتی ہیں
آگے بڑھنے سے، آزاد ہونے سے

پرانے لوگ
ماضی کے دامن میں لپٹے
اپنے وقت کی خوبصورتی
اور اپنی زندگی کی کہانیوں میں گم
نئے دور کو سمجھ نہ پاتے
اور نئی نسل
ماضی کی باتوں کو
بوجھ سمجھ کر پھینک دیتی ہے

دریا کے دونوں کنارے
ہمیشہ الگ رہتے ہیں
نہ ماضی حال میں گھلتا ہے
نہ حال ماضی کو بدل سکتا ہے
مگر وقت، دریا کی طرح
بہتا رہتا ہے
بے آواز، بے رنگ
بس چلتا رہتا ہے
نئی نسل کو اگلے سفر کی طرف
اور پرانی نسل کو ماضی کے خوابوں میں دفن کرتا ہوا۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

 

No comments:

Post a Comment