Visitors

Friday, February 21, 2025

اداس آنکھوں والی عورت

 

 
 

  اداس آنکھوں والی عورت
خاموش ہے، پر کہانیوں سے بھری
اس کی پلکوں پہ ٹھہری اوس
کسی گزرے لمحے کی گواہی دیتی ہے۔

وہ جس نے خوابوں کو
چولہے کی راکھ میں دبا دیا
جو ہنستے ہوئے اپنے آنسو
چائے کی پیالی میں گھول دیتی ہے۔

اس کے ہاتھوں کی لکیریں
محبت کے طوفان سہہ کر
خاموش سمندر بن چکی ہیں۔
اس کی مسکان میں
گہرے زخم چھپے ہیں
جو دن کے اجالے میں دکھائی نہیں دیتے۔

اداس آنکھوں والی عورت
کبھی کھلکھلاتی نہیں،
مگر اس کی موجودگی
چمکتے دن کا سہارا بن جاتی ہے۔
وہ دوسروں کے خوابوں کے لیے
اپنی نیند قربان کرتی ہے
اور اپنی خواہشوں کو
دھوپ کی طرح پگھلا دیتی ہے۔

یہ عورت
زندگی کا استعارہ ہے،
دکھوں کو سہنے کی طاقت
اور محبت کو نبھانے کی مثال۔

اس کی خاموشی،
ایک چیخ ہے
جو دنیا کے شور میں دب جاتی ہے۔
مگر اس کی اداسی
چاندنی رات کی طرح
ہر دل کو چھو جاتی ہے۔

اداس آنکھوں والی عورت
زندگی کی گہری کتاب ہے،
ہر صفحے پہ ایک کہانی
اور ہر کہانی میں ایک خواب۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا



قسموں کی قیمت: سچائی کے بازار میں


یقین کے دھوکے میں
میں نے کئی خواب دیکھے تھے
مجھے لگتا تھا،
قسموں کے بوجھ تلے
لوگ جھوٹ کے لبوں کو بند کر لیتے ہیں
مگر سچ تو یہ ہے،
قسموں کے بعد ہی
وہ لوٹ کا کھیل شروع کرتے ہیں۔

میں بے وقوف تھا،
یہ سمجھ نہ سکا کہ
لفظوں کی مالا میں چھپے دھوکے
کتنے گہرے ہوتے ہیں،
کہاں سچ کا رستہ بنتا ہے،
کہاں اعتبار کا پل ٹوٹتا ہے۔

قسمیں،
جنہیں میں تقدیس کا لباس سمجھتا تھا،
دھوکہ بن گئیں،
اور میں،
یقین کے خنجر سے زخمی ہوا۔

اب جان گیا ہوں،
لوگوں کی آنکھوں میں سچائی نہیں،
قسموں میں وفا نہیں،
یہ دنیا ایک بازار ہے،
جہاں قسمیں بھی بِکتی ہیں،
اور سچائی،
صرف کہانیوں میں رہ جاتی ہے۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

 


تمہارے ہونے کا احساس

 


تمہاری موجودگی میں
مجھے خوش رہنے کے لیے
کوشش نہیں کرنی پڑتی
تمہارے قرب کا احساس
خود ہی دل کو مسرت سے بھر دیتا ہے۔

تمہاری ہنسی کی گونج
میرے دل کے ہر کونے کو جگا دیتی ہے
تمہاری آنکھوں کی روشنی
میرے اندھیروں میں چراغ جلا دیتی ہے۔

تمہاری باتوں کی خوشبو
میرے خیالات میں مہک بن کر
ہر الجھن کو آسان کر دیتی ہے
تمہاری خاموشی بھی
میرے دل کو سکون دے جاتی ہے۔

تم ساتھ ہو تو
وقت کے پر جلنے لگتے ہیں
خوابوں کی دنیا
حقیقت کے رنگوں سے بھر جاتی ہے۔

کبھی سوچتا ہوں
کہ اگر تم نہ ہوتے
تو خوشی شاید ایک خواب ہوتی
تمہارے ہونے سے
زندگی مکمل اور خوبصورت ہو گئی ہے۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

استاد اور زندگی

 


  یہ لازم نہیں،
کہ استاد ہوں تو خوشیاں چھوڑ دوں،
کتابوں کے بوجھ تلے دب جاؤں،
زندگی کے رنگوں کو ماند کر دوں،
یا خوابوں کے پنکھ کتر دوں۔

میں بھی موسیقی کی دھن میں بہہ سکتا ہوں،
کرکٹ کے میدان میں دوڑ سکتا ہوں،
دوستوں کی محفل میں قہقہے لگا سکتا ہوں،
یا کوئی محبت کی داستان سنا سکتا ہوں۔

میں اپنی مرضی کا لباس پہنوں،
اپنے بالوں کو نئی تراش دوں،
میں اپنی دنیا کو سجاؤں،
خوابوں کو حقیقت بناؤں۔

مگر،
مجھے اپنے طلباء کو بھٹکانا نہیں،
ان کے ذہنوں کو محدود کرنا نہیں،
نئی دنیا کی روشنی ان تک پہنچانی ہے،
مذہب کے نام پر سائنس کی کلاس روکنی نہیں۔

مجھے ان کے خوابوں پر پہرے نہیں بٹھانے،
ان کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرنی،
ان کو اپنی سوچ کی زنجیروں میں جکڑنا نہیں،
بلکہ آزاد پرواز کا ہنر سکھانا ہے۔

اخلاقیات کی تربیت دینا ہے،
مگر زبردستی کا بوجھ نہیں ڈالنا،
مجھے ان کے دلوں میں اعتماد جگانا ہے،
زندگی کو زندگی کے جیسا سکھانا ہے۔

تو آؤ،
ہم استاد رہ کر بھی زندگی جئیں،
خواب دیکھیں، خواب دکھائیں،
اور ہر ایک کی راہ کو روشن بنائیں۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا