Visitors

Saturday, October 12, 2024

محبت کا الزام


 

 

 

 

 

 

 

کہتے ہیں تم کافر ہو یہ الزام لگا بیٹھے
ٹھیکے دارِ دین ہم پر فتوے لگا بیٹھے

ہم نے تو صرف انسان کو دل سے چاہا
وہ کفر سمجھے اور ہمیں مُنکر بنا بیٹھے

محبت کے رنگوں سے چُنے سب خواب
مگر وہ تو نفاق کی چادر میں چھپے بیٹھے

سمجھتے ہیں خود کو وہ مقام اعلٰی
محبت کی زبان سے وہ ہیں بالا بالا

ہم نے تو الفت کا دیا ہے پیغام
مگر وہ تو نفرت کی قید میں جا بیٹھے
 
از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

 

عورت اور سوال


عورت نے جب سوال کیا علم و ہنر سے
ملی توہین ہر طرف، ہر ایک بشر سے

دین نے کہا تھا علم ہے حق سبھی کا
مگر یہ حق چھین لیا مُلا کے ڈر سے

خدا نے دی عقل، شعورِ فکر بھی بخشا
پر دل نہ بدلا، خوف تھا لوگوں کے شر سے

سچ کی جو روشنی کو دباتے ہیں یہاں
اندھیرا پھیلتا ہے ظلمت کے گھر سے

 

Saturday, October 5, 2024

ذہنی بیمار اساتذہ اور نئی نسل کا تباہ ہوتا مستقبل

 



 تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور اساتذہ اس نظام کا مرکزی کردار ہوتے ہیں۔ ایک اچھا استاد نہ صرف بچوں کو علم دیتا ہے بلکہ اُن کے کردار کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ لیکن جب ایک استاد خود ذہنی مریض ہو، یا اپنی ذاتی ناکامیوں اور مسائل سے لڑ رہا ہو، تو وہ بچوں کے مستقبل کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے اساتذہ، جو اپنی نفسیاتی حالتوں کے باعث بچوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں، معاشرتی ترقی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

مذہبی جنونیت کا شکار اساتذہ

بعض اساتذہ مذہبی شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے عقائد کو بچوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی سوال کو ایک چیلنج سمجھتے ہیں اور طلبہ کی تجسس کی صلاحیت کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک استاد جو مذہبی جنونیت میں مبتلا ہو، وہ بچوں کے ہر سوال کو ایک گناہ سمجھ کر اُنہیں سختی سے روکتا ہے۔ ایسی تعلیم، جہاں سوال کرنے کی آزادی نہ ہو، بچوں کو صرف روایتی سوچ کے سانچے میں ڈھالتی ہے، اور اُن کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بچوں کے تعلیمی معیار کو کمزور کرتا ہے بلکہ اُنہیں ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔

موازنہ کرنے والے اساتذہ

کچھ اساتذہ اپنی ذاتی زندگی میں دوسروں سے موازنہ کرنے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو اُن کی صلاحیتوں کی بجائے دوسروں کی کامیابیوں کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ ایسے اساتذہ بچوں کو ہمیشہ یہ باور کراتے ہیں کہ وہ ناکام ہیں کیونکہ اُن کے پاس وہ مادی وسائل نہیں جو دنیا کے کامیاب لوگوں کے پاس ہیں۔ ایک استاد جو اپنے شاگردوں سے یہ کہے کہ "تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہاری زندگی میں وہ سہولتیں نہیں جو فلاں ملک کے بچوں کے پاس ہیں" بچوں کو اپنی صلاحیتوں سے مایوس کر دیتا ہے۔ اس موازنہ کا رویہ بچوں کے اندر خود اعتمادی کی کمی اور مایوسی کو جنم دیتا ہے، جو اُن کی زندگی بھر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

شک میں مبتلا اساتذہ

ذہنی دباؤ اور بدگمانی کے شکار اساتذہ، اپنے شاگردوں کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہر حرکت کو ناپسندیدگی اور مخالفت کے طور پر لیتے ہیں، اور طلبہ کو شک کی بنیاد پر ذلیل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک استاد جو اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ "تم لوگ میرا مذاق اُڑا رہے ہو" یا "تم میری بات نہیں سنتے"، دراصل خود عدم تحفظ اور بدگمانی کا شکار ہوتا ہے۔ یہ رویہ بچوں کے لیے جذباتی طور پر تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ وہ خود کو غیر محفوظ اور استاد سے دور محسوس کرنے لگتے ہیں۔

معاشرتی دباؤ کا شکار اساتذہ

کچھ اساتذہ اپنے اردگرد کے معاشرتی حالات اور دباؤ کا شکار ہو کر تعلیم دیتے ہیں۔ اُنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ مادی چیزیں اور معاشرتی مقام ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہیں۔ وہ بچوں کو ہمیشہ یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کا مطلب پیسہ اور تعلقات ہیں۔ ایسے اساتذہ بچوں کی سوچ کو ایک محدود دائرے میں قید کر دیتے ہیں اور محنت، کردار اور علم کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے اپنی محنت اور قابلیت کی قدر نہیں کرتے اور صرف مادی کامیابیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

معاشرتی حل اور تجاویز

ذہنی طور پر غیر متوازن اور مریض اساتذہ نہ صرف اپنے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پوری نسل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ایسے اساتذہ کے اثرات بچوں کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر انتہائی منفی ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی نفسیاتی حالتوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور اُنہیں مناسب تربیت فراہم کریں۔ والدین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اگر کوئی استاد بچوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے، تو فوری طور پر اس کی شکایت کی جائے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کے لیے لازمی طور پر ایک تربیتی نظام ہونا چاہیے جہاں اُنہیں ذہنی دباؤ اور مایوسی سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جائیں۔

استاد کا کردار بچوں کی زندگی میں سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر ایک استاد ذہنی طور پر بیمار ہو یا اپنی ذاتی زندگی کی ناکامیوں کو کلاس روم میں لے آئے، تو وہ بچوں کے مستقبل کو برباد کر سکتا ہے۔ اس لیے معاشرے کو ایسے اساتذہ سے بچانے کے لیے مضبوط تربیتی اور نگرانی کے نظامات قائم کیے جائیں تاکہ نئی نسل کو ایک بہتر، روشن اور کامیاب مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

 

Monday, September 23, 2024

زندگی سے پیار کرنے والوں کے سنگ بیٹھو




زندگی سے پیار کرنے والوں کے سنگ بیٹھو
خوابوں کو تعبیر دینے والوں کے سنگ بیٹھو

نفرت کا کاروبار جو کرتے ہیں ہر پل
بچو اُن سے، جینے والوں کے سنگ بیٹھو

اندھیروں سے ڈرتے ہو تو نہ جاؤ وہاں
خود کو سنوارنے والوں کے سنگ بیٹھو

زندگی کی تلخیوں سے جب تھک جاؤ تم
مسکراہٹ جگانے والوں کے سنگ بیٹھو

نفرتیں بانٹنے والے محبت کا کیا جانیں
دلوں کو جوڑنے والوں کے سنگ بیٹھو

روشنی بکھیرنے والوں کے سنگ بیٹھو
خوشبو میں ڈھلنے والوں کے سنگ بیٹھو

جو زندگی کو مسکراہٹوں سے بھر دیتے
آنسوؤں کی چادر چیرنے والوں کے سنگ بیٹھو

مشکلوں میں ہمت کی مثال بن کر آتے
دل کی گہرائیوں میں اُترنے والوں کے سنگ بیٹھو

محبت کی زبان سے دلوں کو جوڑتے
دوریوں کو مٹانے والوں کے سنگ بیٹھو

زندگی کی راہوں میں چمکتے تاروں کی طرح
ایسی روشنی بکھیرنے والوں کے سنگ بیٹھو

آؤ، مل کر زندگی کا جشن منائیں
خوشیوں کے رنگ بکھیرنے والوں کے سنگ بیٹھو

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

Friday, September 6, 2024

مسکراہٹ اور تعریف


زندگی میں خوشیوں کا حصول بعض اوقات چھوٹے چھوٹے اعمال سے ممکن ہوتا ہے جنہیں ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک عمل ہے "تعریف کرنا" اور "مسکرانا"۔ یہ دونوں انسانی جذبات کے ایسے پہلو ہیں جو نہ صرف ہماری اپنی زندگی میں رنگ بھرتے ہیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی محبت اور خوشیوں کی روشنی بکھیر دیتے ہیں۔ مذہب اسلام نے بھی ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہم دوسروں کی خوبیوں کو سراہیں اور اپنے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ سجائے رکھیں۔

حضور پاک ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا جائزہ لیں تو یہ اصول واضح نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنے اصحاب کی تعریف کی اور ان کے اچھے اعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ اس عمل سے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہمت بڑھتی تھی بلکہ معاشرے میں محبت اور امن کا پیغام بھی پھیلتا تھا۔

جب ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں تعریف اور مسکراہٹ کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں لوگوں کا ایک دوسرے کی تعریف کرنا اور اجنبیوں کے ساتھ بھی مسکرا کر بات کرنا معمول کی بات ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی تعریفیں اور مسکراہٹیں نہ صرف کسی کا دن بنا سکتی ہیں بلکہ معاشرتی تعلقات کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی معاشرہ دنیا بھر میں اپنی خوشگوار اور دوستانہ رویے کے لیے مشہور ہے۔

لیکن جب ہم اپنے پاکستانی معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک مختلف منظر نامہ نظر آتا ہے۔ ہمارے معاشرتی رویوں میں کنجوسی اور سرد مہری نمایاں ہے۔ لوگوں کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کی تعریف کریں گے تو شاید ہمارا وقار کم ہو جائے گا یا دوسرا شخص خود کو ہم سے بہتر سمجھے گا۔ یہ رویہ ہماری معاشرتی زندگی میں سرد مہری اور بداعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات، مہنگائی، اور روزمرہ کی مشکلات نے لوگوں کے دلوں کو سخت اور چہروں سے مسکراہٹیں غائب کر دی ہیں۔

موجودہ حالات نے لوگوں کو اس قدر مصروف اور پریشان کر دیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی خوبیوں کو سراہنے کا وقت اور حوصلہ بھی نہیں پاتے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے افراد میں چڑچڑاپن اور بد مزاجی نے جگہ بنا لی ہے، جس کی وجہ سے ان کے چہروں پر مسکراہٹیں اور دلوں میں خوشی کے جذبات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تعریف اور مسکراہٹ صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمارے اپنے دلوں کو بھی خوشیوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں یا کسی کے ساتھ مسکرا کر بات کرتے ہیں، تو یہ عمل ہماری روح کو سکون اور دل کو راحت پہنچاتا ہے۔

اسلام میں تعریف اور مسکراہٹ کی حوصلہ افزائی اس بات کی غماز ہے کہ یہ عمل نہ صرف ہمارے دینی فرائض کا حصہ ہے بلکہ ہماری روحانی اور معاشرتی زندگی کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ "مسکرا کر ملنا صدقہ ہے"۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صرف ایک مسکراہٹ بھی دوسروں کے دل میں خوشی کی روشنی بھر سکتی ہے اور یہ عمل خدا کے نزدیک صدقے کے برابر ہے۔

اسی طرح، ترقی یافتہ ممالک میں بھی لوگوں نے اس اصول کو اپنایا ہوا ہے۔ جاپان جیسے ملک میں، تعریف اور دوسروں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کا رواج ہے۔ جاپانی معاشرہ اپنی محنت، دیانت داری اور دوسروں کی تعریف کرنے کی عادت کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ تعریف کرنے سے نہ صرف دوسروں کو خوشی ملتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی پیدا ہوتی ہے۔

اگر ہم پاکستانی معاشرے میں بھی اس رویے کو فروغ دیں تو ہمیں حیرت انگیز نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایک استاد جب اپنے طالب علم کی محنت کو سراہتا ہے، تو وہ طالب علم خود کو اہم محسوس کرتا ہے اور اس کے اندر مزید محنت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح، اگر ہم اپنے گھروں میں، دفاتر میں، یا عام زندگی میں دوسروں کی تعریف کرنے کی عادت ڈالیں تو یہ عمل ہمارے معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنائے گا اور دلوں میں محبت و احترام پیدا کرے گا۔

دوسری طرف، ہم دیکھتے ہیں کہ مہنگائی اور معاشرتی دباؤ نے لوگوں کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ لوگ اپنی پریشانیوں میں اس قدر مبتلا ہو گئے ہیں کہ انہیں دوسروں کی خوبیوں کو سراہنے کا وقت نہیں ملتا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال، جیسے کہ کسی کی تعریف کرنا یا اس کے ساتھ مسکرا کر بات کرنا، ہماری زندگی میں خوشی اور سکون کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ وہ اعمال ہیں جو ہمارے معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں محبت اور ہمدردی کی روشنی بھرتے ہیں۔

حضرت علیؓ کی زندگی بھی ہمارے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی خوبیوں کو سراہتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے۔ ان کا یہ عمل ان کے دل کی پاکیزگی اور محبت کی علامت تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اس اصول کو اپنایا کہ دوسروں کی تعریف کرنا نہ صرف ان کے لیے خوشی کا باعث ہوتا ہے بلکہ ہمارے دل کو بھی سکون عطا کرتا ہے۔

دوسرے مذاہب میں بھی تعریف اور مسکراہٹ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ عیسائیت میں بھی دوسروں کی تعریف کرنا اور ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا ایک اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے بھی اپنے پیروکاروں کو یہ تعلیم دی کہ وہ ایک دوسرے کی محبت اور تعریف کے ذریعے دنیا میں امن اور خوشی کا پیغام پھیلائیں۔ اسی طرح، ہندو دھرم میں بھی دوسروں کی خوبیوں کو سراہنے اور عزت دینے کا رواج ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرتی اور روحانی زندگی کے لیے بے حد اہم ہیں۔ تعریف کرنا اور مسکرانا ہمیں دوسروں کے دلوں کے قریب لاتے ہیں اور ہمارے معاشرتی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔

ہمیں آج سے ہی اس عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ جہاں کہیں کسی کی کوئی خوبی دل کو بھائے، اسے سراہنے میں دیر نہ کریں۔ یہ چھوٹا سا عمل نہ صرف دوسروں کے چہرے پر مسکراہٹ لائے گا بلکہ ہمارے دل کو بھی خوشیوں سے بھر دے گا۔ اور یوں ہم بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح ایک خوشگوار اور مثبت معاشرہ قائم کر سکیں گے، جہاں تعریف کے بول اور مسکراہٹیں ہماری زندگی کا حصہ ہوں گی۔

تو آئیے، آج سے ہی یہ عہد کریں کہ ہم اپنے دل کی کنجوسی کو ختم کریں گے اور دوسروں کی تعریف کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ یہ نہ صرف ہمارے معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنائے گا بلکہ ہمارے دلوں میں بھی محبت اور سکون کی روشنی بھر دے گا۔